• narrow screen resolution
  • wide screen resolution
  • fluid screen resolution
  • Increase font size
  • Default font size
  • Decrease font size
  • style1 color
  • style2 color
  • style3 color
قرض آٹھانے کے اخراجات

قرض کی بابت اخراجات :
قرض لیتے وقت جو اُس کے بابت اخراجات ہو تے ہیں اُن میں سب سے اہم شرح سود ہے ۔ یہ عموماً کل قرض کی رقم پر فی صد کے حساب سے لاگو کی جاتی ہے ۔ جو آپ اسے ماہانہ اقساط میں قرضہ کو واپس کر تے رہتے ہیں ۔ مزید براں بعض لون دہندہ (بینک ) دفتری کاروائی کے اخراجات قرضہ دیتے وقت یکبارگی وصول کر تے ہیں۔ سود اور اضافی رقم براہ راست قرض دھندہ کو جاتی ہے ۔ اور یہ عموماً نقد ادائیگی کی صورت میں ہوتا ہے۔


تاہم اسطرح کے دوسرے ملتے جلتے اس قرض کے ساتھ ہو تے ہیں جو عموماً عیاں نہیں ہو تے ۔ بعض اوقات وصولیابی کیلئے درخواست لکھنا ، ملاقاتیں کرنا، یا دفتری امور کیلئے بینک آنا جانا ۔ یہ سرگرمیاں آپکو اپنے کاروبار سے دور رکھتی ہیں ۔ یا تو کاروبار کو بند کرنا ہو گا یا کسی کے حوالے یعنی قیمتی اشیاء جبکہ آپ دور ہوں بڑے جگر گردے کا کام ہے ۔
اگر چہ یہ اضافی ، بالو اسطہ اخراجات کا(اصل زر) سے کوئی تعلق نہیں ۔مگریہ حقائق ہیں کہ قرض دھندہ بینک کا انتخاب سوچ و سمجھ کر کریں ۔


قرض دہندہ (بینک) کا انتخاب
قرض کی اقسام کے لحاظ سے اسکے اخراجات مختلف ہو تے ہیں یہ قرض دہندہ کی پالیسیوں یعنی شرح سود، فیس بچت کے لوازمات اور گارنٹی (ضمانت) سے متعلق ہو تی ہیں ۔ جب آپ قرضہ لینا چاہتے ہوں تو مختلف بینکوں سے قرض کے مصارف کا تقابل جائزہ ضرور لیں ۔


صرف اخراجات کی وجہ سے قرض دہندہ بینک کا انتخاب نہ کریں ۔بلکہ ذیل کے نکات کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں

  • جگہ :کیا بینک آپکے گھر یا کاروبار کے پاس ہے ؟
  • مالی پیشکش : کیا آپکے لون کے علاوہ مالی ادارہ (بینک) اور بھی اقسام کے قرض یا بچت اسکیمیں متعارف ہیں ۔
  • صارفین کی خدمات :کیا آپ کو اُدھر سہولت کا احساس ہے ؟
  • کیا عملہ دوستانہ تعاون کررہا ہے ؟

قرض خواہ کو درج ذیل سوالات ضرور کر نے چاہیے

  • کتنے اقسا م کے قرض کی پیشکش کر رہے ہیں ؟
  •  ضمانت کی تفصیلات کیا ہیں ؟
  •   بچت کی تفصیلات کیا ہیں ؟
  •  شرح سود کیا ہیں؟
  •   فیس کتنی مہیا کی جاتی ہے ؟
  •  تاخیر کی ادائیگی پر کتنا جرمانہ دینا پڑتا ہے ؟
  •  قرض وصول کرنے تک کتنا وقت درکار ہوگا ؟
  •   درخواست بابت قرض کے سلسلے میں آپ کو خود کتنی بار جانا پڑے گا ؟