• narrow screen resolution
  • wide screen resolution
  • fluid screen resolution
  • Increase font size
  • Default font size
  • Decrease font size
  • style1 color
  • style2 color
  • style3 color
اے ٹی ایم اور ڈیبٹ کارڈز

اے ٹی ایم اور ڈیبٹ کارڈز

آپ کے بینک کی جانب سے آپ کو ایک بینک کارڈ دیا جاتا ہے اور آپ کو اجازت ہوتی ہے کہ خودکار ٹیلر مشین یا اے ٹی ایم مشین کے استعمال کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ سے رقم حاصل کریں۔ اپنے اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے علاوہ آپ اے ٹی ایم سے اپنے اکاؤنٹ میں موجود رقم کے بارے میں بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کر سکتے ہیں اور اپنے اکاؤنٹ میں جمع کر سکتے ہیں۔ بعض اے ٹی ایم ڈاک کے ٹکٹ یا موبائل فونز کیلئے ائیر ٹائم کارڈز بھی فروخت کرتے ہیں۔ہر بینک خود اپنااے ٹی ایم کا نیٹ ورک رکھتا ہے لیکن آپ اپنے بینک کارڈ کو کسی اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں خواہ اے ٹی ایم کا تعلق آپ کے بینک سے ہو یا نہ ہو۔ مگر آپ کا بینک آپ کی جانب سے ہر باراے ٹی ایم استعمال کرنے کے عوض معاوضہ یا فیس وصول کر سکتا ہے جو دوسرے بینک کے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔

اے ٹی ایم کا استعمال مرحلہ بہ مرحلہ
ایک ۔ اپنا کارڈاے ٹی ایم میں داخل کریں
دو ۔ اپناپن نمبرٹائپ کریں
تین ۔ اگر پوچھا جائے تو رقم نکالنے کومنتخب کریں
چار ۔ اسکرین پر کئی رقوم ظاہر ہوں گی یا ہندسوں کے بٹن دبا کر اپنی مطلوبہ رقم بتائیں۔
پانچ ۔ اگر پوچھا جائے تو آپ اکاؤنٹ منتخب کریں جس سے رقم نکالنا مطلوب ہے۔
چھ۔ اپنا کارڈواپس لیں۔
سات۔ اپنی رقم وصول کریں ۔
آٹھ۔ اپنی نکالی گئی رقم کی رسید لیں۔

آپ اے ٹی ایم یا ڈیبٹ کارڈ کے لئے استعمال کے لئے آپ پن نمبر ضرور رکھیں ۔ یہ اس وقت منتخب کیا جاتا ہے جب آپ اپنااے ٹی ایم یا ڈیبٹ کارڈ وصول کرتے ہیں۔ عام طور سے پن چار سے چھ ہندسوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو آپ خود منتخب کرتے اور خفیہ رکھتے ہیں۔ آپ ہر بار اپنے اے ٹی ایم کارڈ کے استعمال کے لئے آپ اسی پن کو استعمال کریں گے۔ پن ایک اضافی تحفظ ہے کہ کوئی اور آپ کے کارڈ کے استعمال سے آپ کے اکاؤنٹ سے رقم نہ لے جا سکے۔ اگر کوئی آپ کا بٹوہ ؍پرس چرا لیتا ہے آپ کا اے ٹی ایم کارڈ چھین لیتا ہے؟یا اگر آپ سے اے ٹی ایم کارڈ گم ہو جاتا ہے؟ صرف وہ آپ کا اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرسکتا ہے جو آپ پن جانتا ہولہذا اے ٹی ایم کار ڈکے ذریعے کوئی اور آپ کی رقم نہیں نکال سکتا ۔

آپ خود اس کے نمبر یاد رکھیں گے۔ ایسا نمبرچنیں جو یاد رکھنے میں آسان ہو۔ اپناپن نمبر اپنے پاس رکھیں۔ کسی دوسرے کو نہ بتائیں۔

ڈیبٹ کارڈ
ڈیبٹ کارڈبرقی طریقہِ کار سے بینکاری کی سہولیات استعمال کرنے کا دوسرا طریقہ ہے۔

اے ٹی ایم پر استعمال کرنے کے علاوہ ڈیبٹ کارڈ مختلف دکانوں اور اسٹوروں سے خریداری کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتاہے۔ ہاں مگریاد رہے کہ خریداری کے وقت پر اپنے اکاؤنٹ میں رقم لازمی ہونی چاہئے ۔ آپnکی خریداری کی رقم آپ کے اکاؤنٹ سے فوراً منہا کر لی جاتی ہے۔ آپ کو بینک سے باقاعدہ گوشوارہ وصول ہو تا ہے۔جس میں آپ کے اکاؤنٹ سے کل منہا کی گئی رقم اور آپ کی بقایا رقم ظاہر کی جاتی ہے۔

اے ٹی ایم یابینک کارڈز اور ڈیبٹ کارڈز اکثر ایک جیسے کارڈ ہی ہوتے ہیں لیکن وہ مختلف طریقوں سے کام کرتے ہیں۔ آپ اے ٹی ایم کارڈز ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے، نکلوانے یا جمع کرانے یا کیش ٹرانسفر کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ نکلوانے اور جمع کروانے کے لئے آپ منتخب کرتے ہیں کہ کون سا اکاؤنٹ استعمال کرنا چاہئے۔ڈیبٹ کارڈ آپ کے مخصوص بینک اکاؤنٹ سے رقم لیتے ہیں۔ ڈیبٹ کارڈ اشیاء کی خریداری کے لئے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ خریداری کے وقت آپ اپنے ڈیبٹ کارڈ کو اپنے اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ خریداری کی رقم بھی ادا کر سکتے ہیں۔ اسٹور کے مالک کیلئے ضروری ہوگا کہ خاص مشین رکھتا ہو تاکہ آپ کی مطلوبہ مالیاتی سرگرمیوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے بینک سے رابطہ کرسکے۔

اے ٹی ایم اور ڈیبیٹ کارڈ کے علاوہ ایک تیسری طرح کے کارڈز بھی بینکس کی جانب سے متعارف کرائے گئے ہیں جو کہ کریڈٹ کارڈزیعنی ادھار یامستعار کے کارڈز کہلاتے ہیں۔ یاد رہے کہ اے ٹی ایم اور ڈیبٹ کارڈ کریڈٹ کارڈز نہیں ہیں مگر وہ بینکنگ کو بہت آسان بناتے ہیں اور کسی بھی وقت مختلف مقامات میں آپ اکاؤنٹ کو استعمال کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ان کارڈ کو رقم نکلوانے یا چیزیں خریدنے کے لئے استعمال کرتے ہیں تو آپ کے اکاؤنٹ میں رقم ضرور ہونی چاہئے جوکم از کم آپکی خریداری یا نکلوائی جانے والی رقم کے برابر ہو۔ کریڈٹ کارڈایک مختلف چیز ہے۔ اس کارڈکے ذریعے آپ خریداری کرسکتے ہیں چاہے آپ کے اکاؤنٹ میں رقم نہ بھی ہو۔

کریڈٹ کارڈز
بینکوں سے اچھے مالی تاریخ رکھنے یعنی کبھی نادہندہ نہ ہونے والے حضرات کریڈٹ کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔

جب آپ اشیاء کی ادائیگی کے لئے کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ حقیقت میں آپ بینک سے جاری کردہ کارڈ سے قرض لیتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ خریداری کے وقت آپ کے اکاؤنٹ سے ہر خرید اری کی رقم کاٹ لی جائے۔بینک فروخت کرنے والے کو ادائیگی کرے گا اور آپ کو ہر ماہ کریڈٹ کارڈ بل بھیجے گا جس میں کریڈٹ کارڈ سے آپ کی گئی تمام خریداریاں دکھائی ہوں گی۔ اگر آپ نیتیس دنوں کے اندر اندر اس بل کی ادائیگی نہیں کی تو کریڈ ٹ کارڈ فراہم کرنے والا ادارہ یعنی بینک آپ کے غیر اداشدہ بقایاجات پر نفع ؍ سود وصول کرنا شروع کر دے گا۔